مصیبت ایک سبق ہے کہانی

 یہاں ایک اردو میں ایک خوبصورت معاشرتی سبق آموز کہانی پیش کرتا ہوں:


ایک دن ایک چھوٹے شہر میں ایک پیر بابا رہتے تھے۔ وہ بہت معیشت گزار تھے اور لوگ انہیں بڑے عقلمند مانتے تھے۔ ان کے پاس ایک بچہ آیا جو بڑے شور مچا رہا تھا۔ پیر بابا نے اسے ہلکی سی ملتانی دی اور کہا، "بیٹا، یہ پتھے پر سے ہٹ جاؤ۔" لیکن بچہ نے ان کی بات نہ سنی اور اس نے شور مچاتے ہوئے اپنا راستہ جاری رکھا۔


دوسرے دن بچہ پھر آیا اور پیر بابا نے اسے دوسری بار ملتانی دی اور کہا، "بیٹا، اپنے راستہ سے ہٹو۔" بچہ پھر بھی نہیں سنا اور اپنے راستے پر چلتا رہا۔


تیسرے دن بچہ ایک بار پھر اسی طرح شور مچاتا ہوا آیا اور پیر بابا نے اسے پھر سے ملتانی دی، لیکن اس بار وہ اس بچے کی طرف سے ہنسنے لگے۔ بچہ حیران ہوا اور پوچھا، "آپ مجھ پر یکساں ملتانی دیتے ہیں، پر ہر بار میں نے آپ کی بات نہیں مانی۔"


پیر بابا نے مسکرا کر جواب دیا، "بیٹا، ہر بار جب میں تمہیں ملتانی دیتا تھا، وہ ملتانی اس بات کا سبق ہوتی کہ زندگی میں جب تمہیں کوئی معاشرتی ادارہ یا قانون بتاتا ہے کہ یہ گلی سے ہٹو، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تمہیں اپنے معیاروں اور احترام کے قواعد کے مطابق چلنا چاہیے۔"


اس کہانی سے یہ سبق حاصل ہوتا ہے کہ ہمیں معاشرتی قوانین اور احترام کے قواعد کو ہمیشہ پیروی کرنی چاہیے تاکہ ہمارے رفتار میں چھوٹی چیزیں بھی دوسروں کے لئے تکلیف کا باعث نہ بنیں۔

Comments

Popular posts from this blog

پرانے زمانے کی محبت اردو کہانی

تبدیلی کی راہ: ایک اخلاقی کہانی

یہ کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ہر شخص کی دنیا اور انتظارات مختلف ہوتے ہیں-