پرانے زمانے کی ایک لو سٹوری
پرانے زمانے کی ایک لو سٹوری
یہ کہانی اس زمانے کی ہے جب محلوں کی شان و شوکت اپنے عروج پر تھی اور راجکمار اور راجکماریوں کے قصے دلوں کو گرماتے تھے۔ اس کہانی کا آغاز ایک خوبصورت ریاست "پری نگر" سے ہوتا ہے، جہاں راجا ویر سنگھ کی حکومت تھی۔ راجا کی ایک ہی بیٹی تھی، راجکماری سندری۔ سندری کی خوبصورتی کی مثال دی جاتی تھی اور دور دور تک اس کے حسن کے چرچے تھے۔
ایک دن راجکماری سندری اپنی سہیلیوں کے ساتھ محل کے باغ میں کھیل رہی تھی۔ اچانک اس کی نظر ایک نہایت خوبصورت جوان پر پڑی جو درخت کے سائے تلے بیٹھا بانسری بجا رہا تھا۔ اس کی بانسری کی دھن اتنی دلکش تھی کہ سندری کے قدم بے اختیار اس کی طرف بڑھ گئے۔ اس جوان کا نام کرن تھا، جو ایک غریب گاؤں کا رہنے والا تھا لیکن اس کی موسیقی کی مہارت نے اسے خاص بنا دیا تھا۔
سندری اور کرن کے درمیان پہلی ملاقات میں ہی ایک عجیب سا تعلق قائم ہو گیا۔ دونوں اکثر محل کے باغ میں ملتے اور ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارتے۔ ان کی محبت دن بدن بڑھتی گئی۔ لیکن یہ محبت چھپی نہ رہ سکی اور جلد ہی محل کے لوگوں کو اس کی خبر ہو گئی۔
راجا ویر سنگھ کو جب اس بات کا علم ہوا تو وہ بہت غصے میں آ گیا۔ اس نے کرن کو محل سے نکالنے کا حکم دیا اور سندری پر سخت پابندیاں لگا دیں۔ راجکماری کو اپنے کمرے میں قید کر دیا گیا اور کرن کو دھمکی دی گئی کہ وہ دوبارہ محل کے قریب نہ آئے۔
سندری نے اپنے والد کو بہت سمجھایا، اپنی محبت کی سچائی کا یقین دلایا، مگر راجا ویر سنگھ نے اس کی ایک نہ سنی۔ کرن بھی محل کے دروازے پر آ کر راجا سے معافی مانگنے لگا، مگر اسے سختی سے واپس بھیج دیا گیا۔
اس جدائی نے سندری اور کرن دونوں کو بے حد تکلیف دی۔ دونوں نے سوچا کہ اگر وہ ایک دوسرے کے بغیر جی نہیں سکتے تو کیوں نہ ہمیشہ کے لئے ایک ہو جائیں۔ ایک رات سندری نے اپنے کمرے کی کھڑکی سے چھپ کر بھاگنے کا منصوبہ بنایا۔ دوسری طرف کرن بھی تیار تھا۔ دونوں نے محل کے پیچھے والے دروازے پر ملنے کا وقت طے کیا۔
رات کے سناٹے میں، جب سب سو رہے تھے، سندری خاموشی سے محل کے پیچھے والے دروازے کی طرف چلی۔ کرن وہاں پہلے ہی موجود تھا۔ دونوں نے ایک دوسرے کا ہاتھ تھاما اور ایک دوسرے کے ساتھ بھاگ نکلے۔
پری نگر کے باہر ایک گھنے جنگل میں پہنچ کر دونوں نے آرام کیا اور سوچا کہ اب وہ کبھی واپس نہیں جائیں گے۔ انہوں نے ایک دوسرے سے محبت کی قسمیں کھائیں اور ہمیشہ ایک ساتھ رہنے کا عہد کیا۔ دونوں نے ایک چھوٹا سا جھونپڑا بنایا اور اپنی نئی زندگی کا آغاز کیا۔
لیکن ان کی محبت کی کہانی یہیں ختم نہیں ہوئی۔ راجا ویر سنگھ کو جب اپنی بیٹی کی جدائی کا احساس ہوا تو اس کے دل میں نرمی آ گئی۔ اس نے سوچا کہ شاید اس نے سندری کی خوشیوں کو غلطی سے روند دیا ہے۔
کئی دنوں بعد، راجا نے اپنی فوج کو حکم دیا کہ وہ سندری اور کرن کو ڈھونڈ کر واپس لائیں۔ جب فوجیوں نے سندری اور کرن کو پایا، تو راجکماری نے اپنے والد کے حکم پر واپس جانے سے انکار کر دیا۔ اس نے اپنے والد کو پیغام بھیجا کہ وہ صرف اسی صورت میں واپس جائے گی اگر کرن بھی اس کے ساتھ محل میں رہ سکے۔
راجا ویر سنگھ نے اپنی بیٹی کی خوشیوں کو مقدم رکھتے ہوئے کرن کو محل میں رہنے کی اجازت دے دی اور دونوں کی شادی بڑی دھوم دھام سے کی گئی۔ اس دن سے کرن اور سندری ہمیشہ کے لئے ایک ہو گئے اور ان کی محبت کی کہانی آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہے۔
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ سچی محبت ہر رکاوٹ کو پار کر سکتی ہے اور دلوں کو ملانے میں بڑی طاقت رکھتی ہے۔
Comments
Post a Comment